Saturday, 7 February 2026

Targeting Pakistan’s Heart: Terror Beyond Sectarian Lines

The latest bomb blast at an Imam Bargah during Friday prayers must not be dismissed as yet another episode of sectarian violence. To frame it that way is misleading—and plays directly into the hands of those who seek to destabilize Pakistan. This was a strategic strike aimed at the state, social cohesion, and economic revival, not a spontaneous sectarian clash.

The choice of location is telling. An attack in or near the federal capital is a deliberate message: those entrusted with national security are being exposed as vulnerable. This is about demonstrating institutional weakness, not simply causing casualties.

Targeting Shias at a place of worship is tactically calculated to manufacture the illusion of sectarian conflict. Pakistan’s Shia and Sunni communities have coexisted for decades. By creating the perception of intra-Muslim hostility, the perpetrators hope to provoke mistrust, social fragmentation, and internal tension—classic tools to weaken a nation from within.

Timing is critical. After prolonged economic strain, Pakistan is showing early signs of recovery—stabilizing markets, cautious investor interest, and renewed trade activity. Terrorism at this juncture is meant to undermine confidence, discourage investment, and stall the revival.

The attack also feeds into the Afghan blame narrative. Linking violence to cross-border militancy or safe havens conveniently shifts attention from the real sponsors, strains Pakistan-Afghanistan relations, and disrupts the flow of Afghan transit trade—a vital lifeline for both economies.

To call this “sectarian killing” is to misdiagnose the problem. The reality is far more calculated: a foreign hand is striking at security credibility, social harmony, regional diplomacy, and economic momentum. The question is not who was killed, but who benefits. And the answer lies far beyond sectarian lines.

Pakistan cannot allow its narrative to be hijacked. Recognizing the true nature of these attacks is the first step toward ensuring that security, economic revival, and regional cooperation are not held hostage by external designs.

1 comment:

  1. سلامتی، حساسیت اور قانون کی حکمرانی

    منظر نقوی
    اسلام آباد کی مسجد و امام بارگاہ حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا میں ہونے والے ہولناک خودکش دھماکے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اقدامات عوامی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔ اس المناک واقعے کے بعد اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری پولیس کی جانب سے شروع کیا گیا گرینڈ سرچ اور کومبنگ آپریشن ریاستی عزم کا اظہار ہے کہ جرائم کی روک تھام اور عوامی سلامتی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا۔

    زونل ایس پیز کی نگرانی میں کیے گئے اس آپریشن میں مرد اور خواتین پولیس اہلکاروں نے حصہ لیا۔ مختلف علاقوں میں 236 افراد کی چیکنگ، 94 گھروں اور چار دکانوں کی تلاشی، 120 موٹر سائیکلوں اور 47 گاڑیوں کا معائنہ کیا گیا۔ اس دوران 13 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا، جن میں دو افغان شہری بھی شامل ہیں، جبکہ اسلحہ، گولہ بارود اور منشیات کی برآمدگی کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔ ایسے اقدامات ایک خوف زدہ شہر میں ریاستی رٹ اور چوکسی کا پیغام دینے کے لیے اہم سمجھے جا رہے ہیں۔

    یہ حقیقت ہے کہ اسلام آباد کو، خصوصاً اس نوعیت کے دہشت گرد حملے کے بعد، بڑھتے ہوئے سلامتی کے چیلنجز کا سامنا ہے۔ بطور وفاقی دارالحکومت اور ریاستی طاقت کی علامت، یہ شہر فطری طور پر جرائم پیشہ اور شدت پسند عناصر کی توجہ کا مرکز بن جاتا ہے۔ ان حالات میں انسپکٹر جنرل پولیس کی جانب سے ضلع بھر میں سرچ آپریشنز کے احکامات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اب غفلت کی کوئی گنجائش نہیں اور جرائم کی روک تھام کے لیے پیشگی اقدامات کیے جائیں گے۔

    تاہم، امن و امان کے قیام کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ ایسے آپریشنز قانون اور انسانی وقار کے دائرے میں رہ کر کیے جائیں۔ سرچ اور کومبنگ کارروائیاں ریاست اور شہری کے درمیان اعتماد کا امتحان ہوتی ہیں۔ عوام کا اعتماد صرف نتائج سے نہیں بلکہ شفافیت، قانونی تقاضوں کی پاسداری اور غیر جانبدار رویے سے قائم ہوتا ہے۔ جہاں پولیس منصفانہ اور قانون کے مطابق کارروائی کرتی نظر آئے، وہاں تعاون بڑھتا ہے؛ اور جہاں امتیازی سلوک یا بے جا سختی کا تاثر پیدا ہو، وہاں بداعتمادی جنم لیتی ہے۔

    دو افغان شہریوں کی گرفتاری نے بھی توجہ حاصل کی ہے، جو اس بات کی یاد دہانی ہے کہ پاکستان میں لاکھوں افغان مہاجرین اور تارکینِ وطن برسوں سے پرامن زندگی گزار رہے ہیں۔ قانون سب کے لیے برابر ہے، مگر کسی کی شہریت کو محض شک کی بنیاد نہیں بنایا جانا چاہیے۔ ہر کارروائی شواہد اور حقائق کی بنیاد پر ہونی چاہیے تاکہ سیکیورٹی اقدامات نفرت یا اجتماعی الزام تراشی کا سبب نہ بنیں۔ سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچا کر حاصل کی گئی سلامتی دیرپا نہیں ہو سکتی۔

    دوسری جانب اسلحہ اور منشیات کی برآمدگی ایک سنگین اور مسلسل مسئلے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ غیر قانونی اسلحہ اور منشیات نہ صرف جرائم بلکہ شدت پسندی کو بھی تقویت دیتے ہیں۔ اس طرح کے آپریشن اس وقت زیادہ مؤثر ثابت ہوتے ہیں جب یہ ایک جامع، انٹیلی جنس پر مبنی حکمتِ عملی کا حصہ ہوں، جس کا ہدف صرف وقتی گرفتاریوں کے بجائے پورے نیٹ ورکس اور سہولت کاروں کا خاتمہ ہو۔ اصل کامیابی تحقیقات، مضبوط مقدمات اور عدالتوں میں قابلِ عمل سزاؤں سے جڑی ہوتی ہے۔

    آپریشن میں خواتین پولیس اہلکاروں کی شمولیت ایک مثبت اور قابلِ تحسین پہلو ہے۔ یہ نہ صرف گھریلو علاقوں میں مؤثر تلاشی کو ممکن بناتی ہے بلکہ پولیسنگ میں شمولیت اور پیشہ ورانہ رویے کے فروغ کی علامت بھی ہے۔ اس رجحان کو مزید مضبوط بنانے کے لیے تربیت، کمیونٹی انگیجمنٹ اور حقوق پر مبنی نفاذِ قانون کو فروغ دینا ہوگا۔

    آخرکار، کسی بھی بڑے سانحے کے بعد سلامتی صرف پولیس کارروائیوں سے یقینی نہیں بنائی جا سکتی۔ شہری جرائم اور انتہاپسندی کے پیچھے بے روزگاری، سماجی عدم مساوات، منشیات کا پھیلاؤ اور کمزور شہری نگرانی جیسے عوامل بھی کارفرما ہوتے ہیں۔ مؤثر حکمتِ عملی کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں، ضلعی انتظامیہ، سماجی اداروں اور مقامی قیادت کے درمیان ہم آہنگی ناگزیر ہے۔

    آئی سی ٹی پولیس کا یہ آپریشن اس امر کی یاد دہانی ہے کہ موجودہ حالات میں چوکسی ناگزیر ہے، مگر یہ چوکسی قانون، ضبط اور جوابدہی کے ساتھ جڑی ہونی چاہیے۔ اگر واقعی جرائم کو “جڑ سے ختم” کرنا مقصود ہے تو سرچ آپریشنز کو مستقل، انٹیلی جنس پر مبنی اور قانون کی حکمرانی کے اصولوں کے مطابق ہونا ہوگا۔ یہی راستہ عوامی تحفظ کو نہ صرف فوری بلکہ دیرپا بنیادوں پر مضبوط کر سکتا ہے

    ReplyDelete