ایران اور امریکہ کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات بغیرکسی نتیجہ کے ختم ہوگۓ اور دونوں ملکوں کے نمائندے اپنے اپنے وطن واپس چلے گۓ۔ یہ کوئ حیرت یا مایوسی کی بات نہیں بلکہ متوقع نتیجہ ہے۔
مجھے یہ کہنے کی اجازت دیں کی امریکہ ایران سے اپنی شرائط پر جنگ بندی
کا معاہدہ کروانا چاہتا تھا جو صرف اس کا وہم تھا۔ وہ آخری وقت تک ایران کی کوئ
شرط ماننے کے لیۓ تیار نہیں تھا۔
امریکہ آج بھی یہ بات ماننے کے لیۓ تیار نہیں کہ اس کی پوزیشن اس وقت
کمزور ہے اور وہ اپنی شرائط پر کوئ معاہدہ نہیں کرسکتا اور اس کو ایران کی کچھ
شرائط ماننا پڑیں گی۔ امریکی حکام کو یہ بھی یاد رکھنا چاہیۓ کہ ان کو آخری وقت
میں افغانستان سے کس کسماپرسی میں بھاگنا پڑاتھا۔
ایران سے اس جنگ میں امریکہ اکیلا ہے اور ا س کے ماضی کی اتحادی اس کا
ساتھ دینے کو تیار نہیں۔ حد تو یہ ہے کہ وہ عرب ممالک جہاں امریکی فوجی اڈے ہیں اب
دبے لفظوں میں کوچ کا اشارہ دے رہے ہیں۔
اسرائیل نے امریکہ کو اس جنگ میں دھکیلا تھا اور وہ ایران کی مکمل
شکست چاہتا ہے جو خواہش تو ہوسکتی ہے مگرقابل حصول ہدف نہیں۔
امکان تو نہیں کہ امریکہ آبناۓ ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت بحال کرنے
میں کامیاب ہوگا لیکن خطرات بڑھتے جارہے ہیں کہ اگرمڈل ایسٹ میں دوبارہ جنگ کی
شعلے بھڑک اٹھے تو بربادی کے سوا کچھ نہ ملےگا اور کوئ بھی ملک محفوظ رہے گا۔
اب عرب حکمرانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ امریکہ کوآبناۓ ہرمز میں جہازوں
کی آمدورفت بحال کرنے کے لیۓ جیو اور جینے دو کی بنیاد پر فوری طور پر راضی کریں۔
وہ یہ بھی سمجھنے کی کوشش کریں کہ ان کا تیل نہیں بک پارہا اور امریکہ اپنا تیل
اور گیس مہنگے داموں بیچ رہا ہے۔

No comments:
Post a Comment