اس سال
فروری میں ان دونوں ملکوں نے دوبارہ اور زیادہ شدت سے ایران پرحملے کیۓ اور ایٹمی اورمیزائیل
پروگرامز کو نقصان پہنچانے کے ساتھ رجیم چینج کا نعرہ بھی شامل کیا گیا۔
میرے
خیال میں یہ غلط بیانی تھی، اصل مقصد تیل پیدا کرنے والے عرب ممالک کی معیشت کو
تباہ کرنا ہے۔ ممکن ہے آپ میں سے بہت سے پڑھنے والے میرے موقف سے اختلاف کریں،
لیکن میری ان سے گزارش ہے کہ ان چند لائنوں کوپڑھیں اور ٹھنڈے دل سے غور کریں:
آبناۓ ھورمزکی بندش کے بعد یہ بات کی کسی حد تک
تصدیق ہوگئی۔ یہ خبریں بھی آگئیں کہ اب تک عرب ممالک کا 500 ملین بیرل کروڈ آئل
ایکسپورٹ نہیں ہو سکا۔
جنگ کے دوران یہ تاثر دیا گیا کہ ایرانی حملوں
کی وجہ سے عرب ملکوں کی تیل اور دوسری اہم تنصیبات کو نقصان پہنچاہے۔ کچھ تجزیہ
کاروں کا یہ خیال ہے کہ یہ تباہی اسرائیلی حملوں کی وجہ سے ہوئ ہے، ایرانی حملوں
کی وجہ سے نہیں۔
اب تو یہاں تک کہا جارہا ہے کہ عرب ملکوں میں
امریکی اڈے مقامی آبادی کو بطور ہیومن شیلڈ استعمال کررہے ہیں اور یہ اڈے عرب
ممالک نہیں بلکہ اسرائیل کی حفاظت کےلیۓہیں۔
مسلمانوں کی لیۓ ضروری ہے کہ اپنے اصل دشمن کو
پہچھانیں۔
