Thursday, 7 May 2026

امریکہ کی شکست کو جیت میں بدلنےکی کوششیں

میرا نکتہ نظر بالکل واضح ہے - امریکہ کو اپنی شکست تسلیم کرنی چاہیے، آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر دوبارہ کھولنے کو یقینی بنانا چاہیے، ایران پر عائد اقتصادی پابندیاں واپس لینا چاہیے اور اس جنگ کے دوران ہونے والے نقصانات کی ادائیگی کرنی چاہیے۔ وقت گزر چکا اوراب شکست کو جیت بنا کر پیش کرنے کا کوئ جواز نہیں۔
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات سٹریٹجک کامیابی کے بجائے بیانیوں کی شکل اختیار کرتی جا رہی ہے۔ ایران کے علاقائی اثر و رسوخ اور جوہری ترقی کو روکنے کے لیے جو ایک زبردست مہم اسرائیل کے ساتھ مل کرشروع کی گئی تھی اعلان کردہ مقاصد کے حصول میں ناکام ہوچکی ہے۔
یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ ایران کی علاقائی اہمیت بڑھ گئی ہے، اس کا گفت و شنید کا انداززیادہ مستحکم ہو گیا ہے اور اقتصادی دباؤ کو برداشت کرنے کی اس کی صلاحیت توقعات سے زیادہ مضبوط ثابت ہوئی ہیں۔ امریکہ کی ہٹ دھرمی کی وجہ سےکئی ہفتوں کی ڈپلومیسی کے بعد بھی بنیادی اختلافات حل نہ ہونے کے ساتھ مذاکرات پیش رفت سے بہت دور ہیں۔
آبنائے ہرمز اور ارد گرد کی صورتحال امریکہ کےغلط اندازوں اور ایران کی طاقت کو اجاگر کرتی ہے اور تیل برآمد کرنے والے ملکوں کے امریکہ پرانحصار کوغلط ثابت کرتی ہے۔ امریکہ کی آبنائے کے بندش کی وجہ سے ایک دن میں تقریباً 140 جہازوں کی مومنٹ  بمشکل گنتی کے چند تیل اور ایل این جی کے جہازوں تک محدود ہوچکی ہے۔
نتائج پرہشان کن ہیں۔ تیل برآمد کرنے والی عرب ریاستوں کو آمدنی کی غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے، جب کہ توانائی درآمد کرنے والی معیشتیں افراط زر کے دباؤ اور سپلائی میں رکاوٹوں کا شکار ہیں۔
ان تلخ نتائج کے باوجود واشنگٹن کی زبان ترقی اور مواقع کی بات کرتی نظر آتی ہے۔ یہ حقائق کی عکاسی کم اور اسٹریٹجک ناقص کارکردگی کو سفارتی کامیابی کے طور پر دوبارہ ترتیب دینے کی کوشش ہے۔ یہ ایک ایسی پالیسی کے تصور کو تقویت دیتی ہے جو بغیر کسی ہدف اورمقاصد کے چلائ جارہی ہے۔
بات اب اس نتیجہ پر پہنچ چکی ہے کہ جتنی دیر تک حقیقت کو جھٹلایا جائے گا اتنی ہی زیادہ قیمت دوسروں کو ادا کرنا پڑرہی ہے۔ ساری دنیا خسارے میں ہے سواۓ امریکہ کے

No comments:

Post a Comment